Loading ...

News Leaks

لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز

سندھ بجٹ پیش۔۔وفاق سے 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کرنے والی پیپلز پارٹی نے 7 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کردیا

کراچی (نیوز لیکس)سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت جاری ہے جس میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔
اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی بجٹ پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے، جس پر ایوان میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اگر وہ تقریر نہیں کرنا چاہتے تو واک آؤٹ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اپنی نشستوں پر بیٹھ کر بجٹ کارروائی کا حصہ بنیں۔
اسپیکر نے ایوان میں موجود اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشستیں عوام کی امانت ہیں اور اگر وہ اجلاس میں رہنا چاہتے ہیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پوری قوم دیکھ رہی ہے اور عوامی فلاح کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل گیارہویں بجٹ کی پیشکش ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے، جبکہ سندھ کی عوام نے ہمیشہ ایک ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 260 ارب روپے کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے اپنے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر میں پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی، صوبے کا بجٹ آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح کے چار بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی ہے اور صوبے میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا اہم مرکز بنے گا، جبکہ عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں اور شہر کا معاشی مستقبل مزید روشن بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے منصوبوں سمیت 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کے منصوبوں کو مکمل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے گئے جبکہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔
بجٹ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے، تعلیم کے شعبے کے لیے 25.9 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ سوشل پروٹیکشن پروگراموں میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے اور صوبے میں عوامی فلاح اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
قبل ازیں مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، معاونینِ خصوصی، مشیروں، چیف سیکریٹری، مختلف محکموں کے سیکریٹریز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

Share the Post:

Related Posts

Scroll to Top