Loading ...

News Leaks

لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز

سانحہ بلدیہ فیکٹری ۔۔چند حقائق ۔۔از قلم ایم وقاص سکھروی

کراچی (وقاص سکھروی کے قلم سے) ستمبر 2012 کی وہ شام، جب کراچی کا افق 260 معصوم انسانوں کی چیخوں اور دھوئیں کے بادلوں سے سیاہ ہو گیا۔ بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری، جو سینکڑوں مزدوروں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ تھی، چند ہی لمحوں میں ایک ایسا خوفناک مقتل بن گئی جس کی ہولناکی سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ تالے لگی ہوئی ایمرجنسی کھڑکیاں، لوہے کی مضبوط جالیاں اور باہر نکلنے کے بند راستے—مزدوروں کو زندہ جلانے کا یہ مہیب کھیل چودہ سال گزرنے کے بعد بھی ایک ڈراونا خواب بنا ہوا ہے۔لیکن اب، جون 2026 میں، اس کیس نے ایک ایسا سنسنی خیز اور چونکا دینے والا رخ اختیار کر لیا ہے جس نے پورے ملک کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے استغاثہ کے کمزور شواہد کے باعث مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں باعزت بری کر دیا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے نے ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس نے پاکستان کے پورے تفتیشی اور عدالتی نظام پر سوالیہ نشانات کی بوچھاڑ کر دی ہے:اگر سپریم کورٹ سے بری ہونے والے یہ افراد مجرم نہیں ہیں، تو پھر 260 بے گناہ مزدوروں کو زندہ کوئلہ بنانے والا اصل جلاد کون ہے؟قانون کا بنیادی اصول ہے کہ جہاں جرم ہوا ہو، تفتیش وہیں سے شروع ہونی چاہیے۔ اب جب عدالت نے پچھلی تمام کہانیوں کو مسترد کر دیا ہے، تو اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی تحقیقات کا آغاز بالکل نئے سرے سے، اور اسی نقطے سے کریں جہاں سے یہ سانحہ شروع ہوا تھا۔یہاں ایک گہرا اور ہولناک شک جنم لیتا ہے: کہیں یہ پوری کہانی کسی مخصوص سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے، اسے سیاسی طور پر ٹھکانے لگانے اور عوامی ہمدردیوں سے محروم کرنے کے لیے تیار کی گئی کوئی بین الاقوامی یا اندرونی سازش تو نہیں تھی؟ اگر یہ سب ایک سیاسی اسکرپٹ تھا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل قاتل آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور معصوموں کے خون پر سیاست چمکائی گئی۔سب سے بڑا اور سنسنی خیز سوال تفتیش کے دہرے معیار پر اٹھتا ہے۔ جب انٹرپول اور دیگر اداروں کی مدد سے دو مبینہ ملزمان کو بیرونِ ملک (تھائی لینڈ اور سعودی عرب) سے گرفتار کر کے پاکستان لایا جا سکتا ہے، تو فیکٹری کے اصل مالکان کو—جو تمام حقائق سے واقف ہیں اور ملک سے باہر عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں—بیرونِ ملک سے گرفتار کر کے پاکستان کیوں نہیں لایا جاتا؟ ان سے قانون کے مطابق سخت تفتیش کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا انہیں بچانے کے پیچھے بھی کوئی طاقتور ہاتھ ہے؟سیاسی جوڑ توڑ، کمزور تفتیش اور طاقتور مقتدر حلقوں کے اس گٹھ جوڑ میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے، تو وہ ان 260 شہدا کے بوڑھے والدین، بیواؤں اور یتیم بچوں کا ہوا ہے جن کے زخم چودہ سال بعد بھی ہرے ہیں۔ جرمن کمپنی کے معاوضے نے ان کے چولہے تو جلائے رکھے، مگر ان کی روحیں آج بھی انصاف کے لیے چیخ رہی ہیں۔بلدیہ فیکٹری کا یہ کیس اب صرف ایک حادثہ نہیں رہا، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پراسرار معمہ بن چکا ہے۔ اگر فیکٹری مالکان کو کٹہرے میں نہ لایا گیا اور نئے سرے سے غیر جانبدارانہ تفتیش نہ کی گئی، تو 260 شہدا کا خون ہمیشہ پاکستان کے انصاف کے نظام کا گریبان پکڑتا رہے گا۔

Share the Post:

Related Posts

Scroll to Top