پاکستان ہاکی کا روشن مستقبل: میرٹ، اعتماد اور کامیابی کا نیا سفر، از قلم ایم وقاص شیخ
کسی بھی کھیل کی بقا اور ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک اس کی قیادت مخلص اور انتظامیہ مضبوط نہ ہو۔ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی، جو طویل عرصے سے زوال کا شکار تھا، اب ایک بار پھر کامیابی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کے موجودہ صدر محی الدین احمد وانی کی متحرک اور دور اندیش قیادت میں ملک میں ہاکی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس نے کھیل اور کھلاڑیوں دونوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی ہے۔کارپوریٹ سیکٹر اور حکومت کا بے مثال اعتمادموجودہ پی ایچ ایف انتظامیہ کی سب سے بڑی کامیابی اسٹیک ہولڈرز اور سپانسرز کا وہ بھرپور اعتماد ہے جو ماضی میں مفقود تھا۔ پاکستان ہاکی کی بحالی اور اس پر اعتماد کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے ادارے اور حکومتیں اب ہاکی کی سرپرستی کے لیے آگے آ رہی ہیں:کارپوریٹ سیکٹر کی آمد: پہلے پی ٹی سی ایل (PTCL)، پھر پارکو (PARCO) اور اب اٹلس بیٹری جیسے بڑے اداروں کا ہاکی کے ساتھ جڑنا اس بات کی گواہی ہے کہ فیڈریشن کی شفافیت پر کاروباری دنیا کو پورا اعتماد ہے۔سرکاری سرپرستی اور گرانٹس: کارپوریٹ سیکٹر کے بعد اب حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب کی جانب سے خطیر مالیاتی گرانٹس کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ حکومتی سرپرستی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ پی ایچ ایف قیادت کی کوششوں کو اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود: ہاکی کی تاریخ کا ایک بڑا انقلابی قدمموجودہ فیڈریشن نے نہ صرف گراؤنڈز کو آباد کیا بلکہ سب سے پہلے کھلاڑیوں کے معاشی تحفظ اور ان کے مورال کو بلند کرنے پر توجہ دی۔ پاکستان ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار ایسے انقلابی اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی:ایڈوانس ڈیلی الاؤنس کی ادائیگی: ہاکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کھلاڑیوں کو پرو لیگ (Pro League) کے لیے روانگی سے قبل ہی ان کے ڈیلی الاؤنسز (Daily Allowances) ایڈوانس میں ادا کر دیے گئے ہیں۔ریکارڈ اضافہ اور منشا کے مطابق الاؤنس: کھلاڑیوں کی دیرینہ مانگ اور منشا کو پورا کرتے ہوئے ڈیلی الاؤنس بڑھا کر 110 ڈالر کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام کھلاڑیوں کو مالی تفکرات سے آزاد ہو کر صرف اور صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اب گیند کھلاڑیوں کے کورٹ میں ہے: قوم کی امیدیں اور امتحان”جہاں سہولیات اور اعزازات بے مثال ہوں، وہاں ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہو جاتی ہے۔”پی ایچ ایف نے اپنے حصے کا فرض بخوبی نبھا دیا ہے اور کھلاڑیوں کو وہ تمام عالمی معیار کی سہولیات، فنڈز اور ماحول فراہم کر دیا ہے جس کا وہ حق رکھتے تھے۔ اب باری کھلاڑیوں کی ہے۔ اب کھلاڑیوں کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ انتظامیہ کی ان مخلصانہ کوششوں اور قوم کے سرمائے کا حق ادا کریں۔پاکستانی ٹیم پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ:گراؤنڈ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی دکھا کر قوم کو جیت کا تحفہ دیں۔دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کر کے پاکستان ہاکی کو اس کا کھویا ہوا عروج اور وہ مقامِ مرتبہ واپس دلائیں جس کے ہم حقدار ہیں۔محی الدین احمد وانی کی قیادت میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جو پودا لگایا تھا، اب وہ ایک توانا درخت بن رہا ہے۔ پوری قوم کو امید ہے کہ گرین شرٹس اب میدانِ عمل میں فتح کے جھنڈے گاڑ کر پاکستان ہاکی کے اس سنہرے دور کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیں گے۔


