اسلام آباد(نیوز لیکس) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی اور ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان ہاکی کی بہتری، کھلاڑیوں کی فٹنس، کوچز کی تربیت اور قومی ٹیموں کی طویل المدتی تیاریوں کیلئے دو سالہ جامع منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پی ایچ ایف ترجمان کے مطابق اہم اجلاس میں آئندہ دو برس کا تفصیلی ہاکی کیلنڈر زیر بحث آیا، جس کے تحت ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم کی سرگرمیوں، تربیتی ورکشاپس، مقامی کوچز کی جدید خطوط پر تربیت، قومی ٹیموں کے ساتھ کام کرنے اور بین الاقوامی دوروں کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے باقاعدہ حکمت عملی مرتب کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے تحت ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم مختلف اوقات میں پاکستان آکر مقامی کوچز کیلئے خصوصی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرے گی، جبکہ قومی سینیئر ٹیم کے ساتھ تربیتی کیمپوں اور اہم بین الاقوامی دوروں میں بھی کام کرے گی۔ اس کے علاوہ جونیئر اور خواتین کی قومی ہاکی ٹیموں کی تربیت اور کھلاڑیوں کی تکنیکی، جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں بہتری بھی دو سالہ منصوبے کا اہم حصہ ہوگی۔
اجلاس میں کھلاڑیوں کی فٹنس اور سلیکشن کے حوالے سے بھی اہم امور زیر غور آئے۔ ترجمان کے مطابق مستقبل میں قومی ٹیم کیلئے کسی بھی کھلاڑی کی سلیکشن صرف نام یا ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ اسے مقررہ فٹنس اور کارکردگی کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم کھلاڑیوں کی فٹنس اور دیگر ضروری معیار کا باقاعدہ جائزہ لے گی اور مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑی کیلئے قومی ٹیم میں جگہ بنانا مشکل ہوگا۔
دو سالہ منصوبے میں پاکستانی کوچز کی استعداد کار بڑھانے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم مقامی کوچز کو جدید ہاکی، فٹنس، گول کیپنگ، پنالٹی کارنر اٹیک و ڈیفنس، تکنیکی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی ذہنی مضبوطی سے متعلق تربیت فراہم کرے گی، تاکہ مستقبل میں پاکستان کے اندر ایک مضبوط اور جدید کوچنگ نظام تشکیل دیا جاسکے۔
واضح رہے کہ ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم میں ڈیوڈ ڈائر بطور فٹنس کوچ، باب ویلڈوف بطور گول کیپنگ کوچ اور پنالٹی کارنر اٹیک و ڈیفنس اسپیشلسٹ، کرس بوون بطور ٹیکنیکل کوچ اور اسپورٹس سائیکالوجسٹ اور عدنان زاکر شامل ہیں۔
علاؤہ ازیں پاکستان ہاکی فیڈریشن اس دو سالہ منصوبے کو صرف قومی سینیئر ٹیم تک محدود رکھنے کے بجائے ملکی ہاکی کے مجموعی نظام کی بہتری کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے، جس میں کھلاڑیوں کی فٹنس، کوچز کی تربیت، جونیئر اور خواتین ہاکی کی ترقی اور قومی ٹیموں کیلئے یکساں پیشہ ورانہ معیار قائم کرنا بنیادی ترجیحات میں شامل ہوگا۔


