Loading ...

News Leaks

لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز

پی ایچ ایف کی قیادت کی بدولت خواتین ہاکی میں سنہرے دور کا آغاز۔۔

عمان(نیوز لیکس) پاکستان میں خواتین ہاکی کے ایک نئے اور سنہرے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے جرات مندانہ فیصلوں اور ہنگامی اقدامات نے نا ممکن کو ممکن بنا کر ملک میں خواتین کے کھیلوں کی تاریخ بدل دی ہے۔ پی ایچ ایف کے صدر مہی الدین احمد وانی اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی دور اندیشی کے باعث محض چار ہفتوں کے مختصر ترین وقت میں نہ صرف ایک تاریخی نیشنل چیمپئن شپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی میدانوں تک پہنچا کر کامیابی کے جھنڈے بھی گاڑ دیے گئے۔
محض چار ہفتوں میں 5 ٹیموں سے 16 ٹیموں کا تاریخی سفر
جولائی 2026 کے آغاز میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل انڈر-21 گرلز ہاکی چیمپئن شپ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو ابتدائی طور پر محض 5 سے 6 ٹیموں نے شرکت کی توثیق کی تھی۔ تاہم، پی ایچ ایف کے غیر متزلزل عزم اور ملک گیر مہم کے نتیجے میں یہ تعداد دیکھتے ہی دیکھتے 16 تک پہنچ گئی:
چیمپئن شپ میں ملک بھر سے 300 سے زائد باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
روایتی صوبائی ٹیموں کے ساتھ ساتھ پہلی بار گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں اور مقامی اکیڈمیوں کی ٹیموں کو قومی سطح پر کھیلنے کا تاریخی موقع ملا۔
بنیادی مقصد: کسی بھی قسم کے سفارشی کلچر سے ہٹ کر، خالص میرٹ کی بنیاد پر ہر باصلاحیت لڑکی کو قومی دھارے میں شامل کرنا۔
انتظامی تاریخ کا بے مثال ریکارڈ: 36 گھنٹوں کا “پاسپورٹ معجزہ”
نیشنل چیمپئن شپ کے دوران، 2 جولائی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کو عمان میں منعقدہ انڈر-18 اور انڈر-21 گرلز فائیو-اے-سائیڈ ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کا اچانک دعوت نامہ موصول ہوا۔ قومی اسکواڈز کی فوری تشکیل کے بعد فیڈریشن کو ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا کہ منتخب کردہ 70 فیصد سے زائد کھلاڑیوں کے پاس نہ تو پاسپورٹ تھے، نہ قومی شناختی کارڈ اور نہ ہی ب فارم۔
اس نازک موڑ پر پی ایچ ایف نے روایتی سست روی کے برعکس ایک بے مثال اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا:
وفاقی حکومت، نادرا (NADRA)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور مقامی انتظامیہ کو فوری طور پر اعتماد میں لے کر ہنگامی سیل قائم کیا گیا۔
ایک کھلاڑی کے دستاویزات کی فوری تیاری کے لیے رات کے وقت اس کی والدہ کی بائیومیٹرک تصدیق کا خصوصی اور غیر معمولی انتظام کیا گیا۔
صرف 24 سے 36 گھنٹوں کے ناقابل یقین وقت میں کھلاڑیوں کی تمام شناختی دستاویزات، پاسپورٹس کی تیاری، ویزوں کا حصول، فضائی ٹکٹس، الاؤنسز اور کوچنگ اسٹاف کے سفری انتظامات مکمل کر کے ٹیموں کو عمان روانہ کیا گیا۔ کھیلوں کی تاریخ میں اس تیز ترین سفارتی و انتظامی کارروائی کو ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عمان کے میدان میں پاکستان کی شاندار واپسی
تمام تر سفری اور انتظامی مراحل طے کر کے عمان پہنچنے والی گرین شرٹس نے عالمی میدان میں آتے ہی دھاک بٹھا دی۔ ہانگ کانگ چائنہ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں پاکستان کی کپتان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے “پلیئر آف دی میچ” کا اعزاز حاصل کیا، جس نے ثابت کر دیا کہ مناسب مواقع ملنے پر پاکستانی خواتین دنیا کی کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پی ایچ ایف کا مستقبل کا انقلابی روڈ میپ
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق گرلز ہاکی کا یہ احیاء محض ایک وقتی اقدام نہیں بلکہ ایک مستقل اور منظم مشن ہے، جس کے تحت درج ذیل مستقبل کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے:
کھلاڑیوں کے نیٹ ورک میں توسیع: اگلے برس تک گرلز ہاکی کا دائرہ کار 300 سے بڑھا کر 500 کھلاڑیوں تک وسیع کیا جائے گا۔
نچلی سطح پر ترقی: ملک بھر میں علاقائی (ریجنل) مقابلوں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ گرلز کے لیے پہلی بار انڈر-15 نیشنل چیمپئن شپ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
عالمی معیار کی کوچنگ: پی ایچ ایف کے غیر ملکی فٹنس، ٹیکنیکل، گول کیپنگ اور اسپورٹس سائیکالوجی کے ماہرین اب خواتین کھلاڑیوں کے لیے ہائی پرفارمنس کیمپس کا مستقل انعقاد کریں گے۔
معمارِ وطن بیٹیوں کی میدانِ عمل میں واپسی اور پی ایچ ایف کی مخلص قیادت کے ان اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی ہاکی کا مستقبل اب انتہائی روشن اور تابناک ہے

Share the Post:

Related Posts

Scroll to Top